Showing posts with label Science and Technology. Show all posts
Showing posts with label Science and Technology. Show all posts

Saturday, December 20, 2014

انٹرنیٹ پر 8قسم کے فراڈ....ہوشیارباش



ممکن ہے یہ تحریر آپ کو ان لوگوں میں شامل ہونے سے بچا دے، جنہیں لٹنے کے بعد پچھتاوا ہوا .. انٹرنیٹ جہاں معلومات اور تفریح کا بہت بڑا ذریعہ ہے وہاں اس پر فراڈیے بھی ہر وقت سرگرم رہتے ہیں۔ وہ انٹرنیٹ پر آپ کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں اور موقع ملتے ہی آپ کودھوکا دے کر لوٹ لیتے ہیں۔ آج کل انٹرنیٹ پر 8قسم کے فراڈ زیادہ کیے جا رہے ہیں۔ ان کی تفصیل دی جا رہی ہے تاکہ آپ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے محتاط رہیں اور اگر کوئی فراڈیا آپ کو دھوکا دینے کی کوشش کرے تو آپ اس مضمون میں دیے گئے طریقوں پر عمل کر کے لٹنے سے بچ جائیں۔
1۔ فری ٹرائل آفر یہ فراڈ کیسے کیا جاتا ہے: آپ کسی حیران کن چیز کو ایک مہینہ مفت آزمائشی طور استعمال کرنے کی پیش کش دیکھتے ہیں۔ یہ عموماً دانتوں کو سفید کرنے والی کوئی چیز ہوتی ہے یا وزن کم کرنے کا پروگرام۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو صرف وہ رقم ادا کرنا ہو گی جو اس چیز کو آپ تک پہنچانے میں خرچ ہو گی۔ پیش کش کی تحریرباریک الفاظ میں ایسے رنگ سے چھاپی جاتی ہے جومٹ جاتا ہے اور اس کے نیچے یہ عبارت چُھپائی گئی ہوتی ہے کہ آپ ہر مہینے $79 یا $99 ادا کرنے کے

چین ، ریسٹورنٹ میں روبوٹ ویٹرز



بیجنگ: چلتے پھرتے اور انسانوں کی طرح کام کرتے روبوٹ کبھی صرف سائنس فکشن انگلش فلموں کا ہی حصہ ہوا کرتے تھے تاہم جدید ٹیکنالوجی نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہے اور اب زندگی کے اکثر شعبوں میں روبوٹ کام کرتے نظر آئیں گے اسی لیے چین کے ایک ہوٹل نے روبوٹ بطور ویٹر رکھ لیے ہیں تاکہ گاہکوں کو تیز رفتار اور بروقت سروس فراہم کی جاسکے۔
چین کے مشرقی صوبے زی جیانگ کے شہر ننگبو میں موجود ایک ریسٹورنٹ کے مالک نے گاہکوں کے لیے 5 روبوٹ ویٹر متعارف کرادیئے جو دیکھتے ہی دیکھتے گاہکوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، ایک میٹر لمبے روبوٹ ویٹرز گاہکوں کو اپنی خوبصورت

Monday, December 1, 2014

دھکاسٹارٹ جہاز


سائبیریا کے اگارکا ایئر پورٹ پر ٹی یو 134 نامی طیارہ برف باری کے باعث رن وے پر پھنس گیا  اور اسٹار ٹ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، مسافروں کو بتایا گیا کہ جہاز کے انجن میں تیل جم گیا ہے اور کوشش کی جارہی کہ اسے مائع میں تبدیل کرکے جہازکو اسٹار ٹ کیا جائے، اسی دوران مسافروں نے انتظار کے بعد فیصلہ کیا کہ جہاز کو دھکا لگا کر اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے شاید اسی طرح مصیبت کی اس گھڑی سے نکلا جا سکے، بس پھر کیا تھا تمام مسافر

Monday, November 3, 2014

کینسر و دل کے دورے کا پتہ لگانے والے آلے کی تیاری شروع


گوگل نے کینسر اور دل کے دورے کا پتہ لگانے والے آلے کی تیاری شروع کر دی ہے۔گوگل کے لائف سائنسز شعبے کے سربراہ اینڈریو کونریڈ نے کیلیفورنیا کے شہر لیگونا بیچ میں گوگل کے نئے آلے کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا آلے کی تیاری میں نینو ٹیکنالوجی سے

Tuesday, October 21, 2014

آٹھ اسمارٹ فونز جن کے منفرد فیچرز کا کوئی مقابلہ نہیں


آج کے عہد میں بیشتر اسمارٹ فونز میں ہارڈویئر اور سافٹ ویئر اپنے حریف ڈیوائسز سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور ایک سے دوسرے فون کے درمیان بہت کم فرق ہوتا ہے، مگر کچھ کمپنیاں ایسی ہیں جو اس بھیڑچال کی دوڑ سے باہر نکل کر اپنے اسمارٹ فونز میں ایسے منفرد فیچرز متعارف کراتی ہیں جو کسی اور ڈیوائس میں نہیں ہوتی۔
ایسے ہی چند اسمارٹ فونز کے بارے میں جانے جو اپنے منفرد فیچرز کی بدولت دیگر سے بالکل الگ ہیں۔

 سام سنگ گلیکسی نوٹ ایج
سام سنگ گلیکسی نوٹ ایج کی خاصیب اس کی اسکرین کا بینٹ یا خم کھا جاتا ہے، اس نئے اسمارٹ فون کی ڈسپلے اسکرین چھوٹی ہے جو دائیں کونے کی جانب آجاتی ہے جس سے مین ڈسپلے پر چیزوں کو زیادہ وضاحت سے دیکھا جاسکتا ہے، سام سنگ نے اس چھوٹے ڈسپلے پینل کے حامل اسمارٹ فون کسٹم آئزڈ گیم بھی ڈیزائن کر رکھی ہے۔
ایل جی جی تھری
ایل جی کے جی تھری اسمارٹ فون کی خاصیت اس کا لیزر آٹو فوکس کیمرہ ہے، یہ پہلی بار ہے کہ کسی اسمارٹ فون میں فوکسنگ سسٹم کو استعمال کیا گیا ہے، اس سے کم طاقت کی لیزر نکل کر مطلوبہ چیز کے بہترین اینگل پر فوکس ہوجاتی ہے جس سے بہترین تصویر لینا آسان ہوجاتا ہے چاہے وہ چیز، انسان یا جانور حرکت ہی کیوں نہ کررہا ہو مگر تصویر کا معیار متاثر نہیں ہوتا۔
(ایچ ٹی سی ون(ایم ایٹ
ایچ ٹی سی ون (ایم ایٹ) دنیا کا واحد اسمارٹ فون ہے جس کے پشت پر دو کیمرے نصب ہیں، ایک چھوٹا رئیر کیمرہ کسی تفصیل کی باریکیوں کو نمایاں کرتا ہے، جیسا دوسرے کئی اسمارٹ فونز میں بھی ہوتا ہے، تاہم اس فون کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں تصویر لینے کے بعد بھی زیادہ باریکی کو ایڈ کیا جاسکتا ہے، ایسا ہونے کی وجہ دوسرے کیمرے کی موجودگی ہے جو مرکزی کیمرے کے ساتھ ہی اس منظر کو اپنی آنکھ میں محفوظ کرلیتا ہے جس سے تصویر کو زیادہ بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
امیزون فائر فون
امیزون نے حال ہی میں اپنا پہلا اسمارٹ فون متعارف کرایا ہے جس کی خاصیت پانچ فرنٹ کیمرے ہیں، اسکرین سے ذرا اوپر موجود ایک کیمرہ تو روایتی طریقے سے کام کرتا ہے جبکہ دیگر چار کیمرے جو موبائل کے چاروں کونوں میں ہیں، صارف کی آنکھوں کو اسکین کرتے ہیں، جس کے بعد آئی ٹریکنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے صارف مینیو میں آنکھوں کی مدد سے اس پر اپنی مرضی کا کوئی بھی کام کرسکتے ہیں۔
ایل جی جی فلیکس
ایل جی کا جی فلیکس اسمارٹ فون دنیا کا واحد ہیڈسیٹ ہے جو خودکار طور پر اپنا علاج کرتا ہے، اگر اس فون پر خراش آجائے یا یہ گر جائے تو یہ تمام خراشیں یا خرابیاں یہ اپنے طور پر مرمت کرلیتا ہے۔
یوٹا فون
یوٹا فون ایک ایسا اسمارٹ فون ہے جس میں ایل سی ڈی اسکرین کو سامنے اور پشت پر ای لنک ڈسپلے کو استعمال کیا گیا ہے، اس دوسری اسکرین کے ذریعے اس ڈیوائس کو جیب میں آجانے والے ای بک ریڈر کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
نوکیا لومیا 1020
نوکیا لومیا 1020 وہ اسمارٹ فون ہے جس میں اب تک سبسے زیادہ ریزولوشن والا 41 میگاپکسلز کا کیمرہ استعمال کیا گیا ہے، یہ کسی بھی اسمارٹ فون میں نصب سب سے بہترین کیمرہ ہے، اس سے پہلے نوکیا کے ہی ایک ماڈل 808 میں ایسا ہی کیمرہ نصب کیا گیا تھا مگر یہ فون اب تیار نہیں کیا جاتا۔
جنوی ایلفی ایس 5.5
جنوئی ایلفی ایس 5.5 دنیا کا سب سے پتلا اسمارٹ فون ہے جس کی مجموعی موٹائی صرف 5.5 ملی میٹر ہے اور اس کی اسکرین 5 انچ کی ہے۔

Friday, October 18, 2013

”وائی فائی“ سے زیادہ مؤثر اور سستی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی ایجاد

بیجنگ: چینی سائنسدانوں نے بلب کی روشنی کے ذریعے انٹرنیٹ کے استعمال کی نئی ٹیکنا لوجی”لائی فائی“ کی ایجاد کا


دعویٰ کیا ہے جو موجودہ ”وائی فائی“ ٹیکنالوجی سے زیادہ مؤثر اور سستی ہے۔چینی خبر رساں ادارے کے مطابق شنگھائی انسٹیٹوٹ آف ٹینکنیکل فزکس آف دی چائنیز اکیڈی آف دی سائنسز میں ”لائی فائی“ ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی ٹیم کی سربراہ پروفیسر چائی نان نے کا کہناہے کہ ان کی ٹیم ”لائی فائی“ کے ذریعے ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جس کے تحت ایک واٹ ایل ای ڈی بلب کی روشی سے نکلنے والی شعاعوں سے 4 کمپوٹرز پر بیک وقت انٹرنیٹ استعمال کیا جا سکتا ہے، “لائی فائی” ٹیکنالوجی میں ڈیٹا ریڈیو فریکوینسی کے بجائے روشی کے ذریعے سفر کرتا ہے ۔ چائی نان کا کہنا ہے کہ لائی فائی ٹیکنالوجی کے ذریعے انٹرنیٹ کے حصول کے لئے ایل ای ڈی بلب پر خصوصی مائکروچپس چسپاں کرکے روشنی کی شعاعوں کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی گئی اور اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے انٹرنیٹ کی رفتار 150 میگا بائٹس فی سیکنڈ تک بڑھائی جاسکتی ہے جو چین میں انٹرنیٹ کی موجودہ رفتار سے زیادہ تیز ہے۔
سائنسدانوں کی جانب سے ایجاد کی گئی نئی ٹیکنالوجی کو باقاعدہ طور پر 5 نومبر کو شنگھائی میں نمائش کےلئے پیش کیا جائے گا۔

Thursday, March 7, 2013

چلتے چلتے موبائل فون پر بات کرنا خطرناک



امریکہ میں کیےگئے ایک سروے میں پایاگیا ہے کہ ملک میں تقریباً تین میں سے ایک شخص ایسا ہے جو سڑک پار کرتے وقت موبائل پر بات کرتا ہے جس کی وجہ سڑک حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔’انجری پریونشن‘ نامی جنرل کے جائزے میں مختلف سڑکوں پر ایک ہزار پیدل چلنے والوں کا جائزہ لیاگیا جس میں پایا گیا کہ دس فی افراد موبائل پرگانے سن رہے تھے، سات فی صد موبائل پر میسج لکھ رہے تھے اور چھ فی صد لوگ بات کررہے تھے۔
رپورٹ میں بتایاگیا ہے چلتے چلتے موبائل فون پر پیغامات لکھنے والے لوگ عام افراد کی نسبت چار فی صد لال بتی کو نظر انداز کرتے ہیں یا پھر سڑک پار کرنے سے پہلے دونوں جانب دیکھ نہیں پاتے ہیں اور انہیں سڑک پار کرتے میں اور دوسرے لوگوں سے دو سیکنڈ کا زیادہ وقت لگتا ہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جو لوگ سڑک پار کرتے وقت موبائل پر گانے سن رہے تھے وہ سڑک پار کرنے میں تو جلدی کرلیتے ہیں لیکن وہ بھی سڑک کے دونوں جانب کم ہی دیکھتے ہیں۔
رائل سوسائٹی فار دا پریونشن آف ایکسڈینٹس کی کوین کلنٹن کا کہنا ہے ’چلتے وقت سڑک پر نظر رکھنا بالکل اتنا ہے ہی ضروری ہے جتنا کہ کار چلاتے وقت۔ اس لیے موبائل فون پر بات کرنے والے، میوزک سننے والے راہ گیروں کو چاہیے کہ وہ خطرہ مول نہ لیں۔ان کا مزید کہنا تھا’سڑک پر چلتے وقت ہر طرح سے چوکنا رہیں اور موبائل فون آپ کا دھیان بٹا سکتا ہے۔ ٹریفک میں چلتے وقت پوری طرح چوکس رہنا بے حد ضروری ہے۔‘
امریکہ میں محکمہ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ سال دوہزارگیارہ میں راہگیروں کے ساتھ ہونے والے سڑک حادثات میں پانچ فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایڈمنڈ کنگ کا کہنا ہے کہ راہگیروں کے ساتھ حال ہی میں بعض خطرناک حادثات ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ چلتے چلتے یہ بھول جاتے ہیں سڑک پر ٹریفک بھی ہے۔
اس تحقیق میں حصہ لینے والے محقیقین کا کہنا ہےکہ راہ گیروں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سڑک پر چلتے وقت وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ سڑک کے ماحول کا خیال رکھیں۔

اسی بارے میں


پندرہ برس تک چلنے والی فون کی بیٹری

موبائل فون بنانے والی ایک کمپنی نے ڈبل اے بیٹری سے چلنے والا ایسا بنیادی موبائل فون بنانے کا دعویٰ کیا ہے جس کی بیٹری پندرہ برس تک چل سکتی ہے۔اس فون کو امریکہ کے لاس ویگاس میں ٹیکنالوجی کی ایک عالمی نمائش میں پیش کیا گیا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ موبائل فون جی ایس ایم نیٹ ورک پر کام کرتا ہے۔
کمپنی کے مطابق فون کی بیٹری صارفین کو کبھی دھوکا نہیں دے گی اور اگر اس موبائل کو استعمال نہ بھی کیا جائے تو بھی اس کی بیٹری ’ڈسچارج‘ نہیں ہوتی۔اتنا ہی نہیں اس فون سے بغیر سم کارڈ کے ایمرجنسی کال بھی کی جاسکتی ہے۔
فون کی اس بیٹری کو آپ اس کی سکرین پ بھی محسوس کرسکتے ہیں اور اسی وجہ سے فون کی سکرین کا کچھ حصہ ابھرا ہوا ہے۔جس فون میں یہ بیٹری استعمال کی گئی ہے وہ ایک بے حد بنیادی فون ہے۔ مثال کے طور پر اس فون میں صرف دس نمبر ہی سیو کیے جاسکتے ہیں۔ فون میں لگے دس بٹن ان دس نمبروں کو ڈائل کرنے کا کام کرتے ہیں یعنی ایک نمبر سے ایک فون نمبر۔
اس فون میں ایک ایسی ایپلیکشن یا سہولت بھی موجود ہے جس سے فون کھو جانے پر اسے آسانی سے ٹریک کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں